HizbUllah with my view

مشرق وسطی میں اسراٰیل اور اس کے ہمسایوں کے درمیان میں رونما ہونے والے واقعات اس قدر رفتار پکڑ چکے ہیں کہ ان کی وجہ سے ھماری تمام تر توجہ کسی بھی برے رونما ہونےوالے بحران سے ہٹ سکتی ہے بلکہ ہٹ چکی ھے، جیسا کہ یرشلم میں امریکی ایمبیسی کا افتتاح، امریکا کا ایرانی جوہرے معاہدہ سے ہٹنا اور شام میں اسرایلی طیاروں کی کاروائ ،یہ تو کچھ مشہور واقعات ہیں ،
تاہم اگر ہم حزب اللہ اور اسرایل کی آپسی تناو کی بات دیکھیں تو یہ کچھ خبروں سے باہر ضرور مگر  ان کے درمیان جنگ  خارج از امکان نہیں ہے جس کے نتا ئج دوررس اور خطرناک حد تک ہو سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کی جانب سے ایک دوسرے کو کند قسم کی دھمکیوں کی منطق صرف یہی سمجھ آتی ہے کہ دونوں اطراف میں کوی بھی فریق نی دشمنی مول نہیں لینا چاہتا جس کی مضبوط وجہ دونوں اطرف سے خطرناک نتاٰئج کا خوف ہے ، لیکن اس سب کے باوجود جنگ کا امکا ن موجود ھے مگر مقام شا ید کسی اور جگہ ہو جیسا کہ شام۔

 حزب اللہ  کا ایران کی طرف نظریاتی  رجحان  ایک تو اس کا سیاسی استاد جبکے دوسرا مالی اور اسلحے کا زریعہ بھی ہے۔

یہی بات ایران اور اسراٰیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو کو مزید ہوا دے رہی ہے اسراَیَل ،لبنان اور شام کے تعلقات کے مثلث مین ایران کا گہرا دخل ہے جو کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خطے میں عدم استحکام اور اپنے ایجنڈہ کو کمزور علاقوں  میں فرقہ واریت، تعصب اور پراکسی کے ذریعے فروغ دینے میں کار فرما ہے۔دوسری جانب اسراٰیلی دفاعی ماہرین عرصہ دراز سے خطے میں ایران اور اس کی پراکسی ملیشیا کو حا لیہ خطرہ قرار دے رہے ہیں جس کے لیے اسرایؑیل اوراس کے اتحادی متبادل زرائع سے ایران کا استحصال کرنے پر قاٰئل نظر ٓارہے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کی حیرت انگیز کامیابی کا مکمل راز ابھی تک واضح نہیں ہوا مگر یہ سوال لازمی اٹھتا ہے کہ کیا حزب اللہ سیاسی زمہ دارٰی اعتدال کے ساتھ نبھا ئی گی یا سب اس کے بر عکس ھو گا؟ ہم  انہی انتخابی نتاٰیج کو عسکریت پسندی کے کے نقطہ نظر سے بھی دیکھ سکتے ہیں  ۔ زمینی حقائق اور منطق اس بات کو زیادہ وزن دیتے ہیں کہ ماضی میں ہونے والے واقعات اور تجربات کسی بھی عسکری ٹکراو کو روکے ہوئے ہیں،مگر یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ فیصلہ کرنے والے حقیقت پسندانہ فیصلہ کرتے ہیں۔

1982 میں اسرائیل نے نظریاتی اور عملی شکست اس وقت دیکھی جب لبنان میں مداخلت کے بعد اپنی مرضی کا صدر چنا اور کچھ دن بعد ہی شامی خفیہ اداروں کی کاروایئ کے بعد بشیر جمائیل کی موت اورساتھ ہی لبنان اور شام کا امن معاہدہ ، اور امن کی جگہ اسرائیل نے تباہی کا راستہ ہموار کیا جس میں ہزاروں شہری اور فوجی مارے گئے اور نیا دشمن حزب اللہ جسے ملک چھوڑنے میں اٹھارہ برس لگ گئے اور صدی کے چوتھائی حصہ پر محیط حزب اللہ اور اسرائیل کی جنگ کا کوئی سر پاؤں ہاتھ نہ لگ سکا۔اور اسرائیل کے حزب اللہ کی بنیاد پر پورے لبنان کو نقصان پنچایا اس سوچ میں کہ اس سے حزب اللہ پر دباؤ پڑےگا ۔ جس کا نتیجہ اسرائیل کی خواہش کے مطابق نکل سکے،مگر یہ منصوبہ بھی ناکامی کا شکار رہا اور 2006کی جنگ بھی بغیر نتیجے کے معطل کی اگرچہ اس وقت سے اب تک حسن نصر اللہ کو حمایت حاصل ہے۔

اسرائیل کے لیے خطے کی فلم میں ایران ایک یقینی بد معاش ہے،جس کی بازو کا کام حزب اللہ کر رہی ہے،نصراللہ کے بیانات کسی مطلب سے ہرگز خالی نہیں بلکہ خصوصی طور پر حزب اللہ کے اسرائیل کے آ خری معرکہ کے بعد سے اب تک حزب اللہ کی صلاحیت میں اضافہ جس کی وجہ روسی اور ایرانی کمانڈروں کی قرابت اور فوجی طاقت میں 45000تک کا اضافہ ہے شام میں بھاری نقصانات اٹھانے کے باوجود حزب اللہ کو جنگی تجربہ ملا، جبکہ حزب اللہ اب مزائل اور اینٹی ائیر کرافٹ مزایل سے بھی لیس ہو چکی ہے

۔

ایران سے براستہ شام ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے میں اسرائیل کی بے انتہا کوشش صرف محدود طور پر ہی کامیاب ہو سکی ہیں اب اسرائیل کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ بیان کی طرف گامزن ایرانی قاتلوں پر اسرائیل حملوں کی تعداد میں بہت حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور شام میں موجود ایرانی دھواں اور ان کا طویل عرصہ ٹھرنا اسرائیل کے لیے مکمل دھمکی بن چکا ہے اسرائیل اور حزب اللہ میں کسی بھی ٹکراو کا نتیجہ جانی نقصان میں اور تباہی کی صورت نکل سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

USA and Iran: Leading to another global discomfort

In 1995, in succession of Iraq-Iran war USA imposed the sanctions on Iran in terms of economic and military support. With the passage of time and change of foreign policies and govt these sanctions kept on tightening and softening , ...

surmadumar.com copyrights 2019. Disclaimer: any image or text belongs to original author can be addressed to us we will remove it