عشق کی انتہا

کہیں عشق کی دیکھی ابتدا
کہیں عشق کی دیکھی انتہا
کہیں عشق سُولی پر چڑھ گی
اکہیں عشق کا نیزے پر سر گی
اکہیں عشق سجدے میں گِر گیا
کہیں عشق سجدے سے پھر گیا
کہیں عشق درسِ وفا بن
اکہیں عشق حسنِ ادا بنا
کہیں عشق نے سانپ سے ڈسوا دیا
کہیں عشق نے نماز کو قضا کی
اکہیں عشق سیفِ خدا بن
اکہیں عشق شیر خدا بنا
کہیں عشق طُور پر دیدار ہے
کہیں عشق ذبح کو تیا ر ہے
کہیں عشق نے بہکا دیا
کہیں عشق نے شاہِ مصر بنا دیا
کہیں عشق آنکھوں کا نور ہے
کہیں عشق کوہِ طُور ہے
کہیں عشق تُو ہی تُو ہے
کہیں عشق اللہ ہُو ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

USA and Iran: Leading to another global discomfort

In 1995, in succession of Iraq-Iran war USA imposed the sanctions on Iran in terms of economic and military support. With the passage of time and change of foreign policies and govt these sanctions kept on tightening and softening , ...

surmadumar.com copyrights 2019. Disclaimer: any image or text belongs to original author can be addressed to us we will remove it