Home / Urdu / Short stories / بلا عنوان

بلا عنوان

معلوم تاریخ کے سب سے بڑے نفسیات دان نےفرمایا تھا.
جی ہاں ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بنی آدم کو سونے کی دو وادیاں بھی مل جائیں تو تیسری کی تمنا کرے….
سنتے تھے کہ وہ ایشاء کے سب سے بڑے جاگیر دار تھے – ایشیا کے ان سب سےبڑے جاگیردار کہ جن کی زمینوں میں قومی اسمبلی کے دو حلقے آتے ہیں..کہ ٹرین جب ان کی زمینوں سے گزرتی ہے تو گزرتی ہی چلی جاتی ہے… ان کی تصویر دیکھی…شکل ہی بدل چکی تھی ..بیماری نے سب کچھ بدل دیا تھا ..صاف دکھائی پڑتا تھا کہ چراغ سحری ہے .. کوئی دم جاتا ہے کہ بجھ جائے گا… اقتدار کا سورج تو کب کا ڈوب چکا …جی ہاں امین فہیم صاحب کینسر کے ہاتھوں عبرت کی تصویر بنے بیٹھے تھے … اور طرفہ تماشا یہ کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے موصوف کو اربوں روپے کی بد معاملگی میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے…. اور پھر اسی بے چارگی میں دنیا سے یوں رخصت ہوے کہ ایک پائی بھی ساتھ نہ لے جا سکے –
آپ سب نے میر مرتضی بھٹو کی وہ تصویر تو دیکھی ہو گی جس میں ان کی لاچار لاش خوں میں ڈوبی ہوئی سڑک پر پڑی تھی اور بہن تب بھی ملک کی حکمران –
میں نے لاھور کے ایک بہت بڑے پبلشر کے بیٹے کو سڑک کنارے کھلونے بیچتے دیکھا …
میں نے ایک بے حد امیر آدمی کو کہ جس کے گھر میں کئی کئی گاڑیاں خود کھڑی دیکھیں ، دوا کے لیے پیسوں سے محروم دیکھا …
شاہ عالمی کے ایک دکاندار کی اولاد کو اقبال ٹاون کی مارکیٹ میں “تھڑے ” پر بنچ سجاۓ معمولی اشیاء بیچتے دیکھا –
وللہ العظیم میں نے اردو بازار کے ایک دوکاندار کو بالٹی میں دودھ کی بوتلیں بھر کے سڑک سڑک بیچتے دیکھا
میرے چچا کے دوست کہ اشارہ بھی مناسب نہیں ، تحائف پر یوں خرچ کرتے کہ سخاوت بھی شرما جائے …خود میرے گھر میں لاکھوں کی مالیت کا دیا ان کا تحفہ ابھی موجود ہے ..پھر وہی صاحب کروڑوں کی کوٹھی سے ایک کمرے میں منتقل ہونے پر مجبور ہووے کہ جس میں ایک کونے پر پردہ کر کے باتھ روم اور کونے پر چولہا سجا کے کچن بنایا گیا –
انسان ہر طریقے سے دولت کمانے کی کوشش کرتا ہے ..جائز اور ناجائز کے الفاظ کی اس کے نزدیک کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی – اور کمال یہ ہے کہ عمومی طور پر وہ یہ سب اولاد کی محبت میں کرتا ہے
میں نے ایک بہت ہی خوبصورت بوڑھے کے چہرے پر زخم کا نشان دیکھا ، پوچھا تو بولے کہ بیٹے نے مارا ہے
میں ایک روز گاڑی کا ٹائر پنکچر لگوانے رکا ، مستری لڑکے کا ہاتھ زخمی تھا ، پوچھا تو بولا رات ماں کو مارا تھا تب چوٹ لگ گئی … میں حیران اور دکھی ہو گیا تو کچھ فخر سے بولا :
“مجھے غصہ بہت آتا ہے ، بس پھر نہیں دیکھتا ، میں تو ماں کو خوب مارتا ہوں “-
اولاد کا ساتھ تو بسا اوقات دنیا میں بھی نہیں رہتا …..
خواہشات کا سفر اس کو آگے اور آگے لیے جاتا ہے …ناداں جانتا ہی نہیں کہ آگے اور آگئے صرف قبر ہے ….
.شائد انسان کو امید ہوتی ہے کہ قبر میں بھی کچھ ساتھ لے جائے گا …صاحب لوح وقلم نے تو فرما دیا تھا …”أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ…حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ”… کثرت کی حرص نے تم کو غافل کر دیا.. حتی کہ تم نے قبریں جا دیکھیں…سوال سادہ سا ہے کہ حکمران اس سے عبرت پکڑیں گے؟؟
…………..ابوبکرقدوسی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

Imam tirmizi,  khof e khuda, emaan ki inteha

امام ترمذیؒ اپنے وقت کے بہت بڑے محدث اور حکیم تھے۔ حدیث کی مشہور کتاب ...